اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق صیہونی سیاسی جماعت میریٹز کی سربراہ نے تل ابيب حکومت سے فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔میریٹز جماعت کی سربراہ ضہاوا گلعان نے کہا کہ تل ابيب کو چاہئے کہ وہ دنیا کے ممالک کے سامنے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک خود مختار فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے۔
فلسطین کے نیوز نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق اتوار کو ضہاوا گلعان نے ایک آزاد فلسطینی ریاست کو منظوری دینے کے سویڈن کے فیصلے پر اسرائیلی وزارت خارجہ کے ردعمل میں کہا کہ اسرائیل سویڈن کے سفیر کو طلب کرنے کے بجائے ایک خود مختار فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایک خود مختار فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جانا ہی علاقے میں امن کے حصول کا واحد راستہ ہے۔
ادھر سویڈن کی حکومت کی جانب سے فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے منصوبے کے اعلان پر امریکی تنقید کو اسٹاک ہوم نے مسترد کر دیا ہے۔
سویڈن کے وزیر خارجہ مارگٹ وال آسٹرام نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ سویڈن کے حکام کو مسئلہ فلسطین پر اپنے نظریات کا اعلان کرنے کے بعد تنقید کا سامنے کرنے کی توقع تھی، کہا کہ امریکا کون ہوتا ہے ہماری سیاست کے سلسلے میں فیصلہ کرنے والا۔
اس سے پہلے جمعے کو سویڈن کے وزیر اعظم نے کہا کہ ان کا ملک فلسطین کو ایک علیحدہ ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرنے کو آمادہ ہے۔
سویڈن کے نو منتخب وزیر اعظم اسٹیفن لوفوین نے پارلیمنٹ کے افتتاحی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سویڈن فلسطین کو ایک خود مختار ریاست کا درجہ دینے کو تیار ہے۔
سویڈن کے وزیر اعظم کے بیان کا فلسطین میں پر جوش استقبال کیا گیا ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کے سینئر مذاکرات کار صائب عریقات نے کہا کہ سویڈن کے وزیر اعظم نے شجاعانہ بیان دیا ہے۔ صائب عریقات نے رام اللہ میں ایک تقریر میں کہا کہ ہم سویڈن کے وزیر اعظم کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ یورپی یونین کے تمام رکن ملک اسی قسم کا شجاعانہ فیصلہ کریں گے۔
امریکی وزارت خارجہ کو سویڈن کے وزیر اعظم کا بیان پسند نہیں آیا لہذا ایک ترجمان نے کہا کہ یہ وقت سے پہلے دیا گیا بیان ہے۔
.......
/169